رواں برس پاکستان میں 335 خود کش دھماکو ں کے واقعات میں1208افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ صرف کراچی میں اسی عرصے میں1233 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایاگیا۔ ’گلف نیوز‘ کے مطابق وزیر داخلہ کے بلند و بانگ دعووں کے برعکس نہ تو خود کش دھماکے رک سکے اور نہ ہی کراچی کے پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں پر قابو پایا جا سکا۔ اگرچہ کراچی رواں برس خود کش اور پہلے سے نصب بموں کے نشانے پر رہا۔جس میں38افراد ہلاک اور188زخمی ہوئے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کراچی میں جنوری میں 122،فروری میں133،مارچ میں 130،اپریل میں130،مئی میں144،جون میں122،جولائی میں135،اگست میں176،ستمبر میں81اور اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں میں 13سے زیادہ افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا یا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ تین روز میں ہونے والی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہیں۔ اور اس وقت کی تازہ ترین خبروں کے مطابق آج سولہ افراد ٹارگٹ بنے جن میں صرف شیرشای مارکیٹ میں بارہ افراد قتل کیے گیے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110